25 مئی 2012 - 19:30

عراقی دارالحکومت بغداد میں ایران کےساتھ گروپ پانچ جمع ایک کےمذاکرات کےاختتام پر اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کےسکریٹری اوراعلی مذاکرات کار سعیدجلیلی نےکہاہےکہ تہران کاخیال ہےکہ تعاون کےلئےمذاکرات کاراستہ اسی وقت کامیاب ہوسکتاہےجب اس کےمقابلےمیں تخریبی راستےاختیارنہ کئےجائیں۔

ابنا: عید جلیلی نےجمعرات کویورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کےسربراہ کیتھرین اشٹون کےساتھ ایک پریس کانفرنس میں ایران کےساتھ گروپ پانچ جمع ایک کےاجلاس کی میزبانی پرعراقی حکومت اورعوام کاشکریہ اداکرتےہوئےکہاکہ مذاکرات مکمل نہ ہونےکےباوجود ، بڑااچھاماحول رہا کیونکہ طرفین نے واضح اندازمیں اپنےمسائل پرروشنی ڈالی ۔ایران کےاعلی مذاکرات کار نے استنبول اوربغداد میں ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کومثبت قراردیتےہوئے امیدظاہرکی کہ موقف قریب ہونےسےطرفین آئندہ مذاکرات میں جواٹھارہ اورانیس جون کوہونےوالےہیں، تعاون جاری رکھنےکےلئےجامع اتفاق رائےتک پہنچ سکتےہيں۔سعیدجلیلی نےکہاکہ ہماراخیال ہےکہ تعاون کےلئے مذاکرات کاراستہ اسی وقت کامیاب ہوسکتاہےجب اس کےمقابلےمیں کوئي تخریبی راستہ اختیارنہ کیاجائےکیونکہ مذاکرات کی کامیابی کےلئےیہ نہایت سنجیدہ بحث ہے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کےسکریٹری نے پرامن ایٹمی انرجی کےحصول کےلئے ملت ایران کےحق اوراسے تسلیم کئےجانےپرتاکیدکرتےہوئےکہاکہ بغداد مذاکرات میں اس سلسلےمیں تفصیلی گفتگوہوئي لیکن طےپایاکہ یہ مذاکرات ماسکومیں جاری رہیں گے تاکہ اس دوران فریقین کے ماہرین باہم گفتگوکریں اور موضوع بحث کےلئےزمین ہموارکریں۔البتہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین اشٹون نے بغداد اجلاس کےاختتام پر تاکیدکی کہ ایران کےایٹمی پروگرام جیسےمسائل پرگفتگونہایت ہی اہم ہےاوراس میں زیادہ وقت درکارہوتاہے۔ کیتھرین اشٹون نےکہاکہ گروپ پانچ جمع ایک ایران کےایٹمی پروگرام کےپرامن ہونےکےبارےمیں فوری اورڈپلومیٹک حل تک پہنچنےکی کوشش جاری رکھےگا، ایساڈپلومیٹک راہ حل جو این پی ٹی معاہدے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اوربورڈآف گورنرس کی قراردادوں کےمطابق ہو۔ایران کےساتھ گروپ پانچ جمع ایک کےمذاکرات جمعرات کےدن ایسےعالم میں بغداد میں ختم ہوئےکہ ایرانی وفد اپنےمغربی فریق کےساتھ مذاکرات میں اس بات پرتاکیدکررہاتھاکہ جامع اتفاق رائےکےلئے ایسارویہ اختیارکیاجائےجس سےملت ایران کااعتمادبحال ہوسکےتاکہ ایٹمی مذاکرات میں پیشرفت ہو۔ان مذاکرات میں طرفین کےسنجیدہ ہونےکےباوجود ایران پردباؤ جاری رکھنے نیزتہران کےخلاف غیرمنصفانہ پابندیوں کےخاتمےکےلئےواضح پروگرام پیش نہ کیاجانا، اس دور کےمذاکرات میں جامع اتفاق رائےتک پہنچنےميں رکاوٹ بنا۔ان حالات میں یہ نکتہ بھی مدنظررکھناچاہئےکہ ایسےعالم میں جب امریکی کانگریس ، بغداد مذاکرات شروع ہونےسےعین قبل امریکی صدر کوایران کےخلاف پابندیاں بڑھانےکےلئےاکسارہی ہو تو تین ہفتےبعدماسکومذاکرات میں معجزےکی توقع رکھناممکن ہی نہيں ہے۔کیونکہ اگرامریکہ اورمغرب، ایرانی فریق کےساتھ اعتماد کومضبوط کرناچاہتاہےتو اس طرح کےاقدامات سےدست بردارہوجاناچاہئے۔اس بنا پرمغربی فریقوں کویہ نہيں سوچناچاہئےکہ ان حالات میں ایرانی فریق مثبت قدم اٹھائےگا۔ .......

/169